Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کٹے پاؤں والے جانور کی قربانی جائز ہے؟
- Answered by
- مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4920-WAT
- Issued
- 21 شوال المکرم 1447ء / 10 اپریل 2026. DaruliftaAhlesunnat
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم جس جانور کا ایک پاؤں کٹ جائے ، اس کی قربانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال یہ ہے کہ جس جانور کا ایک پاؤں کٹ جائے ، کیا اس کی قربانی ہو سکتی ہے ؟ جواب جس جانور کا ایک پاؤں کٹ جائے ، اس کی قربانی نہیں ہو سکتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہاء کرام نے قربانی کے جواز کے لئے جانور کے تمام اعضاء کا سلامت ہونا ، اور تمام فاحش (بڑے) عیوب سے محفوظ ہونا شرط قرار دیا ہے ، اور چونکہ پاؤں کئے جانور میں ایک عضو کامل مفقود ہونے کے سبب عیب فاحش پایا جا رہا ہے ، لہذا ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.