Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں سورۃ الفاتحہ کے بعد دعائے قنوت پڑھنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4910-WAT
- Issued
- 27 شوال المکرم 1447ء / 16 اپریل 2026. علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہماری مسجد میں ایک نئے امام صاحب آئے ہیں، میں عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں گیا ، امام صاحب نے نماز عشاء کی پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قصد اصرف دعائے قنوت پڑھی، سورت یا آیات کی تلاوت نہیں کی ۔ اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے ؟ جواب فرض نماز کی پہلی دور کعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد چھوٹی سورت یا اس کے قائم مقام ایک بڑی آیت یا چھوٹی تین آیات ملانا واجب ہے ، جبکہ دعائے قنوت قرآن مجید کا حصہ نہیں ہے ، لہذا امام صاحب نے سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت ملانے والا واجب جان بوجھ کر ترک کیا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.