Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آج نماز سے چھٹی ہے کہنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4909-WAT
- Issued
- 27 شوال المکرم 1447ھ / 16 اپریل 2026ء علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم یہ جملہ : "آج نماز سے چھٹی ہے " کہنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص نے غلطی سے کہا کہ "آج نماز سے چھٹی ہے "تو کیا یہ کلمہ کفر ہے ؟ جواب یہ جملہ "آج نماز سے چھٹی ہے " صریح کفر ہے ، جس کو کہنے والے پر حکم کفر ہے ، اور اس پر تو بہ اور تجدید ایمان لازم ہے ، اور شادی شدہ تھا ، تو تجدید نکاح بھی لازم ہے ۔ ہاں ! اگر واقعی غلطی سے یہ جملہ نکل گیا، یعنی کہنا کچھ چاہتا تھا، لیکن زبان سے یہ جملہ نکل گیا، اور وہ اس کلام سے نفرت و بیزاری کا ظہار بھی کرے ، کہ سننے والوں کو معلوم ہو جائے ، کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے ، تو کفر کا حکم نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.