Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچوں سے جانداروں کی ڈرائنگ بنوانا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4905-WAT دام الافيا اهلسنت
- Issued
- 29 شوال المکرم 1447ھ 18 اپریل 2026
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم اسکول والوں کا نا بالغ بچوں سے جانداروں کی ڈرائنگ بنوانا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میری بچی چھٹی (6th) کلاس میں ہے ، اور نا بالغ ہے ، اسکول میں اس سے کارٹون ، مثلا ہا تھی ، شیر وغیرہ کی ڈرائنگ بنوائی جاتی ہے ، تو کیا یہ جائز ہے ؟ اس کی وجہ سے بچی گنہ گار تو نہیں ہوگی ؟ جواب بچوں سے اسکول میں کارٹون کی جو ڈرائنگ بنوائی جاتی ہے ، اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ : (1) اگر وہ ذی روح (جاندار) کی حکایت نہ کرتی ہو، تو جائز ہے ، جیسے بس کے آگے آنکھ لگا دی، کہ اس طرح کی کوئی جاندار مخلوق دنیا میں نہیں پائی جاتی، لہذا یہ خیالی مخلوق کا کارٹون ہے ، جو تصویر کے حکم میں نہیں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.