Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ناپاک صابن پاک کرنے کا طریقہ
- Answered by
- مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4895-WAT
- Issued
- 15 شوال المکرم 1447ء /04 اپریل 2026. دار الافتاء اهاست
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم صابن ناپاک ہو جائے تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر صابن نجاست غلیظہ میں گر جائے ، تو کیا اسے دھو کر دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے ؟ جواب اگر صابن نجاست لگنے سے ناپاک ہو جائے ، تو اس کو اچھی طرح دھو کر نجاست اتار لی جائے، تو وہ پاک ہو جاتا ہے ، اور اس کے بعد اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے " من هذا الفرع يعلم حكم الصابون إذا تنجس فإنه إذا غسل زالت النجاسة المجاورة وبقي طاهرا " ترجمہ : اس فرع (جزئیے ) سے ناپاک ہو جانے والے صابن کا حکم معلوم ہو جاتا ہے ، کہ جب اسے دھو لیا جائے گا، تو (اس کی سطح پر لگی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.