Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

منشا نام رکھنا اور اس کا مطلب

Answered by
مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
Fatwa no.
4880-WAT
Issued
18 شوال المکرم 1447ھ /07 اپریل 2026ء

Question

"نشا“ نام رکھنا کیسا؟ جواب

Answer (beginning)

سوال "نشا“ نام رکھنا کیسا؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم بچے کا نام منشا رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) الْمَنْشأ کے معانی ہیں : پیدا ہونے کی جگہ ، مقصد، مراد و غیرہ، ان معانی کے اعتبار سے منشا “ نام رکھا جاسکتا ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد" نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے ، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے اسمائے مبارکہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگان دین رضوان اللہ تعالی علیم اجمعین کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیجیے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.