Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرآن پاک میں وقفِ جبریل کا کیا مطلب ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد آصف عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4877-WAT
- Issued
- 18 شوال المکرم 1447ء / 107 اپریل 2026. دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم قرآن پاک میں موجود " وقف جبریل " کی وضاحت دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قرآن پاک میں کہیں وقف جبریل لکھا ہوتا ہے ، اس کا کیا مطلب ہے ؟ جواب وقف جبریل کو ، وقف منزل بھی کہا جاتا ہے ، یہ وہ اوقاف ہیں، جو حضرت جبریل علی نبینا وعلیہ الصلاۃ و السلام کی طرف منسوب ہیں، یعنی نزول قرآن کے وقت جہاں انہوں نے وقف کیا، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وقف فرمایا۔ اسی اتباع کی بنا پر علما، صلح اور قرا، ایسے مقامات پر وقف کرنا مستحب سمجھتے ہیں ۔ البتہ ! اس سے یہ مراد نہیں کہ وہاں وحی منقطع ہو جاتی ہے ، بلکہ یہ صرف وقف کے استحباب کی علامت ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.