Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آیت الرضوان نام رکھنا اور اس کا مطلب

Answered by
مفتی محمد سجاد عطاری مدنی دار الافتاء اهاست
Fatwa no.
4872-WAT
Issued
13 شوال المکرم 1447ء 02 اپریل 2026. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم بچی کا نام "آیت الرضوان " رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے بیٹی کا نام آیت الرضوان رکھا ہے ۔ کیا یہ نام شرعی طور پر ٹھیک ہے ؟ جواب بچی کا نام "آیت الرضوان " رکھنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج یا گناہ نہیں ہے ۔ کیونکہ آیت کا مطلب " نشانی علامت " اور رضوان کا مطلب "رضا مندی / خوشنودی" ہے ، یوں یہ نام اچھے معانی رکھتا ہے ۔ تاہم، بہتر یہ ہے کہ صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن ، یا نیک خواتین کے ناموں پر نام رکھا جائے تاکہ ان کی برکتیں نصیب ہوں ۔ لفظ "آیت " کے معانی کے متعلق ، اردو لغت ( تاریخی اصول پر) میں ہے : "آیت : نشانی، دلیل ، برہان ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.