Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مدرسے کے بچوں کو زکوٰۃ دینا
- Answered by
- مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4871-WAT
- Issued
- 13 شوال المکرم 1447ھ / 02 اپریل 2026 ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو زکوۃ دینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مدرسے میں جو بچے پڑھتے ہیں ، ان کو زکوۃ دی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ جواب مدرسے میں پڑھنے والے جو بچے مستحق زکوۃ ہوں مثلا شرعی فقیر ہوں اور سید و ہاشمی بھی نہ ہوں، اور نہ زکوۃ ادا کرنے والے کی اولاد سے ہوں ، انہیں زکوۃ دی جا سکتی ہے ، البتہ جو بچے نا بالغ ہوں، انہیں زکوۃ دینے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے والد بھی مستحق زکوۃ ہوں، لہذا جو بچے سید یا ہاشمی ہیں ، یا وہ زکوۃ ادا کرنے والے کی اولاد سے ہیں، یا خود صاحب نصاب ہیں یا نا بالغ بچے خود تو مستحق زکوۃ ہیں لیکن ان کے والد مستحق زکوۃ نہیں ، تو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.