Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گیس اور سیلنڈر کے کاروبار پر زکوٰۃ کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4870-WAT
- Issued
- 13 شوال المکرم 1447 /02 اپریل 2026
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم گیس اور سیلنڈر کی تجارت پر زکوۃ کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے ایک دوست کا گیس کا کام ہے ، ان کے پاس کافی تعداد میں گیس کے سیلنڈر کھے ہیں، جن میں وہ گیس خرید کر بھر واتے ہیں ، پھر آگے فروخت کرتے ہیں، توکیا گیس اور سیلنڈر دونوں پر زکوۃ ہوگی ؟ جواب شرعی اصول یہ ہے کہ جو چیز بیچنے کی نیت سے خریدی جائے، وہ مال تجارت ہے ، اور مالِ تجارت پر شرائط پائے جانے کی صورت میں زکوۃ فرض ہوتی ہے ، گیس چونکہ اسی لیے خریدی جاتی ہے کہ اسے آگے فروخت کریں گے ، تو گیس مال تجارت ہے ، لہذا گیس کی مارکیٹ ویلیو معلوم کر کے نصاب میں شمار کریں گے ، اور نصاب مکمل ہونے کی صورت میں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.