Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آئل کے پاک یا ناپاک ہونے کا علم نہیں تو استعمال کا حکم

Answered by
مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
Fatwa no.
4869-WAT
Issued
13 شوال المکرم 1447ھ / 02 اپریل 2026

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم جس آئل کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ پاک ہے یا نا پاک ، اسے استعمال کرنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال یہ ہے کہ جس آئل کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ یہ پاک ہے یا نا پاک ، تو اس کو استعمال کرنا کیسا ؟ جواب شرعی اصول یہ ہے کہ اشیاء میں اصل طہارت ہے ، یعنی جب تک کسی چیز کے ناپاک ہونے کا یقین نہ ہو، اس وقت تک وہ چیز پاک ہی شمار کی جائے گی، محض شک و شبہ کی وجہ سے کسی چیز کو نا پاک نہیں کہا جائے گا ۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں حکم یہ ہے کہ جب آئل کے نا پاک ہونے کا علم نہ ہو، تو ایسی صورت میں وہ پاک شمار کیا جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.