Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روزے کی حالت میں منہ میں الائچی رکھنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4865-WAT
- Issued
- 10 شوال المکرم 1447ء / 30 مارچ 2026.
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم روزے کی حالت میں منہ میں الائچی رکھنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ روزے کی حالت میں منہ میں الائچی رکھنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں ٹوٹے گا ؟ جواب الانچی منہ میں رکھی ہو اور اس کا کوئی جز حلق سے نیچے نہ جائے ، تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، لیکن بغیر ضرورت صحیحہ ایسا کرنا مکروہ ضرور ہے ، کہ روزے میں بغیر عذر کے کوئی چیز چکھنا ، چبانا مکروہ ہے ۔ منفذ کے ذریعے جسم میں کسی چیز کے داخل ہونے کے بارے رد المحتار میں ہے " المفطرانما هو الداخل من المنافذ "ترجمه : روزه صرف اس چیز سے ٹوٹتا ہے ، جو منفذ کے ذریعے سے جسم میں داخل ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.