Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امانت کے پیسے واپس کرنے کی نیت سے استعمال کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد بلال عطاری مدنی
Fatwa no.
4859-WAT
Issued
29 رمضان المبارک 1447ھ /19 مارچ 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم امانت رکھوائے ہوئے پیسے اس نیت سے استعمال کرنا کیسا کہ بعد میں لوٹا دیں گے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے ہمارے پاس پیسے امانت رکھوائے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ میں دو سال بعد لے لوں گا اور اب ہمیں کوئی ضرورت ہے تو ہم اس کے پیسے استعمال کر سکتے ہیں اور دو سال بعد اس کے پیسے اسے پورے کر دیں گے ؟ جواب آپ کے پاس اگر کسی نے اپنے پیسے بطور امانت رکھوائے ہیں جیسا کہ سوال سے واضح ہے تو آپ کے لئے اس کی اجازت کے بغیر پیسے استعمال کرنا جائز نہیں اگر چہ یہ نیت ہو کہ بعد میں واپس کر دیں گے، کیونکہ یہ امانت میں خیانت ہے اور امانت میں خیانت کرنا شرعا ناجائز ہے ، البتہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.