Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

صدقے کی نیت والی رقم سے فطرہ ادا کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
4854-WAT
Issued
07 شوال المکرم 1447ھ / 27 مارچ 2026 ء

Answer (beginning)

بسم الله الرحمن الرحيم صدقہ کی نیت سے رکھے ہوئے پیسوں کو فطرانہ میں دینے کا ارادہ ہو تو کیا فطرانہ ادا ہو جائے گا ؟ سوال دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے کچھ رقم صدقہ دینے کی نیت سے جمع کر رکھی ہو اور بعد میں یہ ارادہ بنالے کہ اب یہ رقم فطرانہ کی مد میں ادا کرے گا، کیا اس طرح کرنا درست ہے اور فطرانہ ادا ہو گا ؟ رہنمائی فرمائیں۔ جواب صدقے کی نیت سے رقم الگ کر کے جمع کرنا یہ ثواب کا کام ہے کہ یہ صدقہ کرنے کی نیت ہے اور نیکی کی نیست وارادہ بھی نیکی اور باعث ثواب ہے ، البتہ جب تک یہ رقم اس مقام پر نہ پہنچ جائے جس پر صدقہ کی ہے ، تو یہ صدقہ شمار نہیں ہوگی، کیونکہ جب تک پیسے مطلوبہ مصرف…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.