Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اخنس نام رکھنا کیسا؟

Answered by
ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی فتوی نمبر : 4851-WAT
Fatwa no.
4851-WAT
Issued
01 رمضان المبارک 1447ھ /19 فروری 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اخنس نام رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا اخنس نام رکھنا درست ہے ؟ جواب اخن نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے، کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے ، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شامل حال ہوگی۔ اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے الاخنس بن خباب السلمي له صحبة ترجمہ : اخنس بن خباب سلمی رضی اللہ تعالی عنہ رتبہ صحابیت سے مشرف ہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.