Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
معتکف کا اذان دینے کیلئے اذان والے کمرے میں جانا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4846-WAT
- Issued
- 26 رمضان المبارک 1447ھ / 16 مارچ 2026 ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله م اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ معتکف کا اذان دینے کے لیے اذان والے کمرے میں جانا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) معتکف کا مسجد کے ساتھ متصل کمرے میں ، جو اذان دینے کے لیے بنایا جاتا ہے ، اور فنائے مسجد کا حصہ ہوتا ہے ، وہاں جا کر اذان دینا کیسا ہے ؟ جواب معتکف کا مسجد کے ساتھ متصل اس طرح کے کمرے میں جا کر اذان دینا جائز ہے ۔ در مختار میں ہے (أو)شرعية كعيد وأذانلومؤذنا وباب المنارة خارج المسجد ترجمہ : شرعی حاجت کی بناء پر مختلف کو مسجد سے نکلنا جائز ہے جیسے عید کی نماز کے لئے یا اذان کے لئے جبکہ وہ مؤذن ہو اور منارہ کا دروازہ خارج مسجد ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.