Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
روزے کی نیت کے بعد کھانا پینا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4842-WAT
- Issued
- 24 رمضان المبارک 1447ھ / 14 مارچ 2026 ء
Answer (beginning)
سوال بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ روزے کی نیت کرنے کے بعد کھانا پینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا روزے کی نیت کرنے کے بعد کھا پی سکتے ہیں ، جبکہ ابھی سحری کا وقت باقی ہو ؟ جواب اگر کسی شخص نے روزے کی نیت کر لی ہو ، لیکن ابھی سحری کا وقت باقی ہو، اور صبح صادق طلوع نہ ہوئی ہو، تو اس کے لیے کھانا پینا جائز ہے ؛ کیونکہ روزہ در اصل صبح صادق کے طلوع ہونے (فجر کا وقت داخل ہونے) سے شروع ہوتا ہے ۔ لہذا جب تک فجر کا وقت شروع نہ ہو، اس وقت تک کھانے پینے کی اجازت ہوتی ہے ، چاہے نیست پہلے ہی کیوں نہ کرلی ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.