Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوٰۃ کی رقم رفاہ عامہ میں خرچ کرنا کیسا؟

Answer (beginning)

سوال بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ زکوۃ کی رقم رفاہ عامہ میں لگانے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا زکوۃ کی رقم رفاہ عامہ میں لگا سکتے ہیں ؟ جواب مستحق زکوۃ کو مال زکوۃ کا مالک بنائے بغیر رفاہ عامہ کی کسی صورت میں رقم خرچ کرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی ، خواہ کیسا ہی نیک کام ہو، کہ زکوة و عشر وغیرہ صدقات واجبہ کی ادائیکی کے لیے ضروری ہے کہ کسی غیر ہاشمی، فقیر شرعی، مستحق زکوۃ کو مالک کیا جائے ، اور جہاں مستقق زکوۃ ، شرعی فقیر کو، مالک بنانا نہ پایا جائے ، وہاں صدقات واجبہ خرچ نہیں کیے جاسکتے، تاہم ! نیکی و بھلائی کا کوئی ایسا کام، جہاں تملیک نہ پائی جاتی ہو، لیکن وہاں خرچ کرنے کی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.