Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے میں الکحل والی پرفیوم سونگھنا جائز ہے؟

Answered by
مفتی محمد حسان عطاری مدنی
Fatwa no.
4827-WAT
Issued
20 رمضان المبارک 1447ھ /10 مارچ 2026 ء

Answer (beginning)

سوال بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ روزے کی حالت میں الکحل والی پر فیوم سونگھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) روزے کی حالت میں کپڑے سے الکحل والی پر فیوم سونگھنا جبکہ ذرات اندر نہ جائیں، یہ کیسا ہے ؟ جواب روزے کی حالت میں کپڑے سے پر فیوم سونگھنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کہ اس طرح ذرات دماغ کے اندر نہیں جاتے ۔ مراقی الفلاح میں ہے "لا يكره للصائم شم رائحة المسك والورد ونحوه مما لا يكون جوهر استصلا كالدخان ترجمہ : مشک اور پھول وغیرہ کی خوشبو جس میں دھوئیں کی مثل جو ہر متصل نہ ہو ، روزہ دار کے لئے اسے سونگھنا مکروہ نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.