Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ننگے سر قرآن کی تلاوت کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4821-WAT
- Issued
- 17 رمضان المبارک 1447 / 07 مارچ 2026. كام الأحياء الهالات
Question
ننگے سر قرآن پاک کی تلاوت کرنا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال ننگے سر قرآن پاک کی تلاوت کرنا کیسا ہے ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم ننگے سر تلاوت کرنے کا شرعی حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ننگے سر قرآن کریم کی تلاوت فی نفسہ جائز ہے ، البتہ مستحب اور ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ با وضو، قبلہ رو، پاک صاف اچھے کپڑے پہن کر، اور سر ڈھانپ کر قرآن کریم کی تلاوت کی جائے۔ البتہ ! ننگے سر پڑھنے سے خشوع و خضوع مقصود ہو، تو اسی طرح بہتر ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.