Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تراویح میں سنت کی نیت ہوگی یا نفل نماز کی؟
- Answered by
- مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4807-WAT
- Issued
- 16 رمضان المبارک 1447 / 06 مارچ 2026 ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نماز تراویح کی نیت دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مجھے یہ سوال پوچھنا تھا کہ امام صاحب کے پیچھے تراویح کی نماز میں سنت کی نیت کرنی ہے یا نفل نماز کی نیت کرنی ہے ؟ جواب احتیاط اسی میں ہے کہ تراویح میں تراویح یا سنت وقت یا پھر قیام اللیل کی نیت کرے، البتہ اگر مطلق نماز کی نیت کی، تو اس سے بھی تراویح کی نماز ادا ہو جائے گی ۔ منیۃ المصلی میں ہے ”و الاحتیاط فی التراويح ان ينوى التراويح نفسها اوسنة الوقت او قیام اللیل “ترجمہ : اور احتیاط اسی میں ہے کہ تراویح میں تراویح ، سنت وقت یا قیام اللیل کی نیت کرے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.