Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام کا وتر کی تیسری رکعت میں آہستہ قراءت کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
Fatwa no.
4802-WAT
Issued
14 رمضان المبارک 1447 / 04 مارچ 2026. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم امام کا وتر کی تیسری رکعت میں آہستہ آواز میں قراءت کرنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر امام صاحب وتروں کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورت آہستہ آواز میں پڑھ دیں، تو کیا حکم ہے ؟ جواب وتر کی تینوں رکعتوں میں امام پر جبری (یعنی بلند) آواز سے قراءت کرنا واجب ہے، لہذا اگر امام نے بھولے سے وتر کی تیسری رکعت میں آہستہ آواز سے سورہ فاتحہ اور سورت پڑھ دی، تو ترک واجب کے سبب سجدہ سہو لازم ہو گا ، اور اگر سجدہ سہو نہ کیا، تو نماز واجب الاعادہ ہوگی، اسی طرح اگر امام نے جان بوجھ کر یا مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وتر کی تیسری رکعت میں آہستہ آواز سے قراءت کی، تو نماز…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.