Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وکیل کا زکوٰۃ کی رقم کسی اور غرض سے صدقہ کردینا
- Answered by
- مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4800-WAT
- Issued
- 12 رمضان المبارک 1447هـ / 02 مارچ 2026. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم وکیل نے زکوۃ کی رقم کسی اور غرض سے صدقہ کر دی، تو اس کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے زکواۃ کی کچھ رقم اپنی امی کو زکوۃ ادا کرنے کے لیے دی تھی ، لیکن انہوں نے وہ رقم ، دادا دادی کے ایصالِ ثواب کے نام سے مستحق زکوۃ کو دے دی، تو کیا اس سے زکوۃ ادا ہو گئی، یا پھر وہ نفلی صدقہ شمار ہوگا، جبکہ میری نیست زکوۃ کی تھی ۔ ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں جب وہ رقم مستحق زکوۃ کو پہنچ گئی ، تو آپ کی زکوۃ ادا ہو گئی، کیونکہ آپ کی شرعی حیثیت مؤکل (وکیل بنانے والے) کی ہے ، جبکہ والدہ کی شرعی حیثیت وکیل کی ہے، اور زکوۃ کی ادائیگی میں موکل کی نیت معتبر ہوتی ہے، نہ کہ وکیل کی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.