Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گندم کے بدلے آٹا خریدنا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4784-WAT
- Issued
- 09 رمضان المبارک 1447هـ / 27 فروری 2026. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم گندم کے بدلے آٹا خریدنے کا شرعی حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ درمیانے درجے کی گندم کے بدلے میں آٹا خرید نا کیسا ہے ؟ کبھی کبھا رہا تھوں ہاتھ لیا جاتا ہے ، اور کبھی ایک ہفتے بعد لیا جاتا ہے ، پوچھنا یہ تھا کہ کیا اس طرح کرنا جائز ہے ؟ جواب گندم کو گندم کے آٹے کے عوض فروخت کرنا سود ہے، لہذا نہ برابر بیچنا جائز ہے اور نہ کسی و زیادتی کے ساتھ ، اسی طرح نہ ہاتھوں ہاتھ بیچنا جائز ہے ، اور نہ ادھار ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.