Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اکثم (Aksam) نام رکھنا کیسا؟
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4783-WAT
- Issued
- 08 رمضان المبارک 1447ھ / 26 فروری 2026ء
Question
کیا اکثم نام رکھنا درست ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال کیا اکثم نام رکھنا درست ہے ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم بچے کا نام اکثم (Aksam) رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اکنشم نام رکھنا نہ صرف درست ، بلکہ بہتر ہے ، کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے ، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شامل حال ہوگی ۔ الثقات لابن حبان میں ہے ”الاكثم بن الجون الخزاعي له صحبة “ ترجمہ : اکثم بن جون خزاعی رضی اللہ تعالی عنہ رتبہ صحابیت سے مشرف ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.