Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک عورت دوسری عورت کا دودھ پی لے تو رضاعت ثابت ہوجائیگی؟
- Answered by
- مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4778-WAT
- Issued
- 07 رمضان المبارک 1447ھ /25 فروری 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بالغ ہونے کے بعد عورت کا دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے یا نہیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ایک بالغہ خاتون، دوسری بالغہ خاتون کا دودھ پیے ، تو کیا ان دونوں کی اولاد کا نکاح جائز ہے ؟ جواب بالغہ عورت کا دوسری عورت کا دودھ پینا بھی ناجائز وگناہ ہے ، اور اسے پلانا بھی ناجائز و گناہ ہے ، لیکن اس سے ان کے درمیان رضاعت کا رشتہ قائم نہیں ہوا، کیونکہ حرمت رضاعت صرف ڈھائی سال کے اندر دودھ پلانے سے ثابت ہوتی ہے ، اس کے بعد نہیں، لہذا حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو، تو دونوں کی اولاد کا نکاح ہو سکتا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.