Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شیمپو یا صابن کی وجہ سے آنکھ سے نکلنے والا پانی ناپاک ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد آصف عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4777-WAT
- Issued
- 07 رمضان المبارک 1447ھ / 25 فروری 2026 ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم آنکھ میں شیمپو یا صابن چلا جائے اور جان کی وجہ سے پانی نکلے تو اس پانی کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) آنکھ میں شیمپو یا صابن وغیرہ کچھ چلا جائے، اور آنکھ میں چھن، جلن، یا درد ہو، اور پانی آئے ، تو کیا وہ پاک ہے یا ناپاک ؟ جواب صابن یا شیمپو وغیرہ آنکھ میں چلا جائے ، تو اس کی وجہ سے آنکھ سے نکلنے والا پانی ناپاک نہیں ہے ، اور نہ اس کی وجہ سے وضو ٹوٹے گا، کیونکہ آنکھ سے نکلنے والا وہ پانی ناپاک، اور ناقض وضو ہوتا ہے، جو آنکھ کی بیماری یا آنکھ میں زخم کی وجہ سے بہہ کر نکلے ، جبکہ صابن یا شیمپو جانے کی وجہ سے آنکھوں سے نکلنے والا پانی ، کسی بیماری یا زخم کی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.