Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بُچی کے بال کاٹنا جائز ہے یا نہیں؟
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطارمی مدنی
- Fatwa no.
- 4773-WAT
- Issued
- 05 رمضان المبارک 1447ھ /23 فروری 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم بچی کے بڑھے ہوئے بال کاٹنے کا شرعی حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرے نچلے ہونٹ کے نیچے کے بال اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں، کہ وہ قدرتی طور پر مڑ گئے ہیں، اور منہ کے اندر چلے جاتے ہیں، ان پر کھانا اور مشروبات بھی لگ جاتے ہیں ، کیا میں انہیں کاٹ سکتا ہوں ؟ جواب جی ہاں! بچی کے حد سے زیادہ بڑھے ہوئے بالوں کو بقدر ضرورت کاٹ سکتے ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ : ہو نٹوں کے نیچے، بچی یا اس کے آس پاس کے بال بلا ضرورت مونڈنا یا منڈوانا ناجائز و گناہ ہے ، کیونکہ یہ بال داڑھی میں شامل ہیں، اور داڑھی مونڈنا یا منڈوانا، ناجائز و گناہ ہے، البتہ اگر یہ بال اتنے بڑھ جائیں کہ کھانے،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.