Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چاند کی پہلی تین تاریخوں میں نکاح کرسکتے ہیں؟

Answered by
مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
Fatwa no.
4771-WAT
Issued
06 رمضان المبارک 1447ھ /24 فروری 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم چاند کی پہلی تین تاریخوں میں نکاح کرنے کا شرعی حکم کیا چاند کی پہلی تین تاریخوں میں نکاح کر سکتے ہیں ؟ جواب دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جی ہاں ! چاند کی پہلی تین تاریخوں میں بھی نکاح کر سکتے ہیں، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ شریعت مطہرہ نے کسی مہینے ، موسم یا دن میں نکاح کرنے سے منع نہیں فرمایا، نیز کسی مہینے ، موسم یا تاریخ کو نکاح کے لیے اچھا نہ سمجھنا، باطل و بے اصل اور بدشگونی ہے اور کسی چیز سے بدشگونی لینا شرعاً منع ہے۔ لہذا دیگر تاریخوں کی طرح چاند کی پہلی تاریخوں میں بھی نکاح کرنا شرعاً جائز ودرست ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.