Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
منال نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطارمی مدنی
- Fatwa no.
- 4768-WAT
- Issued
- 06 شعبان المعظم 1447ھ /26 جنوری 2026ء
Question
منال نام رکھنا کیسا ؟ جواب
Answer (beginning)
سوال منال نام رکھنا کیسا ؟ جواب بسم الله الرحمن الرحيم منال نام رکھنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) منال کا معنی ہے : "جاگیر ، مال و اسباب وغیرہ ۔ " معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نیک خواتین مثلا امہات المومنین ، صحابیات و صالحات رضی اللہ تعالی عنہن میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے ، کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بچی کے شامل حال ہو گی۔ فیروزاللغات میں ہے : "منال : جاگیر ۔ جائیداد ۔ مال و اسباب ۔ دھن ۔ دولت ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.