Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام نے نیت نہ کی ہو تو مقتدیوں کی نماز ہوگی؟

Answered by
مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی فتوی نمبر :4764-WAT
Fatwa no.
4764-WAT
Issued
03 رمضان المبارک 1447ھ /21 فروری 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم مقتدیوں کی نماز صحیح ہونے کے لیے امام کا نامت کی نیت کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر امام کچھ مقتدیوں کی امامت کی نیت نہ کرے، تو کیا ان مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی ؟ جواب مقتدیوں کی نماز صحیح ہونے کے لئے امام کا امامت کی نیت کرنا ضروری نہیں ۔ ہاں ! امامت کا ثواب لینے کے لئے امامت کی نیت کرنا ضروری ہے ۔ لہذا اگر امام نے بالکل امامت کی نیت نہ کی، یا خاص مقتدیوں کی امامت کی نیت نہ کی ، تو پھر بھی یہ سارے مقتدیوں کا امام بن جائے گا، اور سارے مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی ۔ امامت کی نیت نہ کرنے سے امامت کا ثواب نہیں ملے گا، لیکن نماز ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.