Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عدت میں داماد اور ماں کے چچا اور تایا سے پردہ
- Answered by
- مولانا محمد بلال عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4759-WAT دام الافيا اهلسنت
- Issued
- 27 شعبان المعظم 1447 هـ / 16 فروری 2026
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم حدت کے دوران داماد سے اور ماں کے سگے کیا اور تایا سے پردے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا عدت کے دوران ساس کا داماد سے اور عورت کا ماں کے سگے چچا اور تایا سے پردہ ہو گا ؟ جواب اولا یا در ہے کہ عدت میں پردے کے حوالے سے کوئی الگ حکم نہیں ہے ، بلکہ عدت کے علاوہ جن سے پردہ کرنے کا حکم ہے ، انہی سے عدت میں پردہ کرنے کا حکم ہے ۔ ساس محارم عورتوں میں سے ہے کہ وہ بیوی کی ماں ہے ، اس کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے، لہذا داماد کا ساس سے پردہ نہیں ، البتہ اساس جوان ہو یا فتنہ کا احتمال ہو، تو پردہ کرنا مناسب ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.