Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تعمیر مسجد میں زکوۃ کی رقم دینا کیسا؟
- Answered by
- مفتی محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4758-WAT
- Issued
- 27 شعبان المعظم 1447 ھ / 16 فروری 2026ء دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم مسجد کی تعمیر میں زکاۃ کی رقم دینے کا شرعی حکم کیا مسجد کی تعمیر میں زکاۃ کی رقم دے سکتے ہیں ؟ تعلیم میں ہیں ؟ جواب دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مسجد کی تعمیر میں زکاۃ کی رقم بغیر حیلہ کیے استعمال نہیں کر سکتے، اور اگر ایسا کیا تو زکاۃ بھی ادا نہیں ہوگی، اور اگر بوقت ضرورت، عاقل بالغ مستحق زکاۃ ( یعنی فقیر شرعی کہ جس کے پاس قرض اور حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی یا اس کی قیمت کے برابر مال موجود نہیں، اور وہ سید یا ہاشمی بھی نہیں ، اور وہ اپنے اصول و فروع میں سے بھی نہیں، اور نہ یہ اس کے اصول و فروع میں سے ہے اور نہ ان کے درمیان میاں بیوی والا رشتہ ہے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.