Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

طلاق کے بعد رجوع کرنے سے طلاق ختم ہوجاتی ہے؟

Answered by
مولانا اعظم عطاری مدنی
Fatwa no.
4755-WAT
Issued
29 شعبان المعظم 1447ء 18 فروری 2026. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم رجوع کر لینے سے طلاق ختم نہیں ہوتی کیا رجوع کر لینے سے پہلی طلاق ختم ہو جاتی ہے ؟ جواب دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) طلاق ہو جانے کے بعد رجوع کرنے سے وہ طلاق ختم نہیں ہوتی، بلکہ باقی رہتی ہے ، لہذا اگر ایک طلاق ہوئی تھی ، تو آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اور اگر دو طلاقیں ہوئی تھیں، تو آئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار رہ جائے گا، جس صورت میں دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس صورت میں جب کبھی مزید دو طلاقیں دے گا، تو تین پوری ہو جائیں گی ، اور جس صورت میں صرف ایک طلاق کا اختیار تھا ، اس صورت میں مزید ایک طلاق دے گا ، تو عورت اس پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.