Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا نابالغ بچی کے سونے پر زکوٰۃ ہوگی؟

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4754-WAT
Issued
02 رمضان المبارک 1447 ھ / 20 فروری 2026 ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم نابالغ بچی کے سونے پر زکوۃ ہوگی یا نہیں؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بیٹی کے لیے اسی کی رقم سے سات تولہ سونا خرید رہا ہوں، جب کہ بیٹی نابالغہ ہے ، تو کیا اس سونے پر زکوۃ فرض ہوگی ؟ جواب نا بالغہ پر زکوۃ فرض نہیں ہوتی، کہ زکوۃ کی فرضیت کے لیے بالغ ہونا شرط ہے، لہذا نا بالغہ بچی کی رقم سے اسی کے لیے سونا خریدنے سے ، اس سونے پر زکوۃ فرض نہیں ہوگی ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ”منھا العقل والبلوغ فليس الزكاة على الصبى “ ترجمہ : زکوۃ کی شرائط میں سے عقل اور بلوغت بھی ہے ، پس نابالغ بچے پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.