Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض وصول کر کے قرضدار کو ہی زکوٰۃ دینا کیسا؟
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم قرض دار سے پیسہ وصول کر کے اسی کو وہ رقم زکوۃ میں دینا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا قرض دار سے پیسہ وصول کر کے ، فوراً اس کو اسی پیسوں سے زکوۃ ادا کر سکتے ہیں ، تاکہ اس کی مدد بھی ہو جائے ، اور ہماری زکوۃ بھی ادا ہو جائے ۔ رہنمائی فرمائیں۔ جواب اگر قرض دار مستحق زکوۃ ہو یعنی ہاشمی اسید نہ ہو، اور نصاب کا مالک بھی نہ ہو یعنی قرض اور حاجت اصلیہ میں مشغول تمام اموال کو نکال کر اس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت برابر کوئی سامان ، رقم وغیرہ موجود نہ ہو، نیزا اپنے اصول و فروع میں سے بھی نہ ہو یعنی نہ وہ اس کی اولاد، یا اولاد کی اولاد میں سے ہو، اور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.