Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عمرہ کیلئے پیسوں کا سوال کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد فراز عطاری مدنی
Fatwa no.
4750-WAT
Issued
29 شعبان المعظم 1447ء 18 فروری 2026

Answer (beginning)

بسم الله الرحمن الرحيم عمرہ کرنے کے لئے سوال کرنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال کیا عمرے کے لیے سوال کرنا جائز ہے؟ معاشرے میں عمومی طور پر یہ چیز دیکھنے کو ملتی ہے، کہ کئی افراد سوال کرتے ہیں ، کہ ہم عمرہ کرنا چاہتے ہیں ، لیکن مالی طور پر کمزور ہیں ، آپ ہمیں عمرہ کروا دیں ، یا عمرے کی رقم دے دیں، کیا ایسا کرنا درست ہے ؟ جواب عمرہ باوجود ہزار نعمت وسعادت ہونے کے ، ضروریات زندگی میں سے نہیں ہے ، لہذا اس مقصد کے لیے اپنی ذات کے لیے سوال کرنا ، کسی صورت جائز نہیں، کہ یہ بلاضرورت سوال کرنا ہے ، اور بلاضرورت سوال کرنا ، حرام و گناہ ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.