Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حضرت حوا کے بچوں کا آپس میں نکاح ہوتا تھا؟
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4749-WAT
- Issued
- 29 شعبان المعظم 1447 هـ / 18 فروری 2026. علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کے بچوں کا آپس میں نکاح دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کے پیٹ سے جو بچے پیدا ہوتے تھے ، ان کا آپس میں نکاح ہو تا تھا ، کیا یہ بات درست ہے ؟ جواب جی ہاں ! حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنہا کے ہر حمل میں دو دو بچے پیدا ہوتے تھے ، جن میں سے ایک لڑکا ہوتا اور ایک لڑکی ، اور ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح ہوتا تھا، اس کی ایک وجہ تو اللہ تعالی کا حکم تھا ، اور دوسری یہ کہ انسان صرف حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد سے ہی ہونے تھے ، اور نسل میں اضافہ بھی ہونا تھا، تو اس وقت ایک دوسرے کے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.