Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حدیث میں عورت کو فتنہ کیوں کہا گیا؟
- Answered by
- مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4748-WAT
- Issued
- 28 شعبان المعظم 1447ھ / 17 فروری 2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم حدیث پاک میں عورت کو فتنہ کہنے کی وجہ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا ایسی کوئی حدیث ہے ، جس میں عورت کو فتنہ کہا گیا ہو، اگر ہے ، تو وہ حدیث بمع شرح بیان فرمادیجئے ۔ جواب جی ہاں ! حدیث پاک میں عورت کو مرد کے لیے فتنہ قرار دیا گیا ہے، اور یہاں فتنہ سے مراد آزمائش اور امتحان ہے ، کہ کئی طبیعتیں ان کی طرف مائل ہوتی ہیں ، اور ان کی وجہ سے حرام میں مبتلا ہو جاتی ہیں، اور ان کی وجہ سے لڑائی جھگڑے اور دشمنی میں سعی کرتی ہیں ۔ لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ نیک عورت کو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے دنیا کا سب سے بہتر سامان قرار دیا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.