Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مدرسے کا چندہ کاروبار میں لگانا جائز ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4726-WAT
- Issued
- 18 شعبان المعظم 1447 هـ / 07 فروری 2026 ء علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم مدرسے کے اضافی چندے کو کاروبار میں لگانا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مدارس کے اضافی چندے کو کاروبار میں لگانا کیسا، تاکہ ان کی آمدن سے مدارس کا نظام چلتا رہے ۔ ؟ جواب مدارس و مساجد کا چندہ عمومی طور پر مدارس و مساجد میں کیے جانے والے عمومی اخراجات مثلا مدرسین کی تنخواہوں ، امام و مؤذن ، خادمین کے وظائف اور صفائی ستھرائی میں ہونے والے اخراجات وغیرہ کے لیے دیا جاتا ہے ، کاروبار میں لگانے کے لیے نہیں دیا جاتا ، لہذا اسے انہی معروف مصارف میں استعمال کرناضروری ہے ، کسی کاروبار میں لگانے کی ہر گز اجازت نہیں ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.