Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گناہ نہ کرنے کی منّت ٹوٹ جائے تو کیا کریں؟
- Answered by
- مفتی محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4721-WAT
- Issued
- 21 شعبان المعظم 1447ھ /10فروری2026ء علم الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم گناہ سے بچنے کی منت مانی ، پھر منت ٹوٹ گئی دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے منت مانی کہ میں فلاں گناہ نہیں کروں گا، اگر کروں تو مجھ پر اتنی رقم صدقہ کرنا واجب ہے ، لیکن شیطان کے بہکاوے میں آکر اس شخص نے وہ کام کر دیا، تو ایسی صورت میں طے شدہ رقم صدقہ کرنا واجب ہوگی یا نہیں ؟ جواب بیان کردہ صورت میں اسے اختیار ہے کہ یا توسطے شدہ رقم صدقہ کر دے اور یا پھر قسم کا کفارہ ادا کر دے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.