Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قبضہ کے بغیر دی گئی رقم وراثت بنتی ہے یا نہیں؟
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4715-WAT
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم ماں کو دینے کے لیے رقم رکھی لیکن قبضہ سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بیٹا پر دیس میں رہتا تھا، اور اس نے اپنی ماں سے کہا کہ : ماں ! میں اپنی کمائی میں سے ایک رقم آپ کے لیے رکھ رہا ہوں ، آپ لے لیں، لیکن ماں نے کہا کہ : جب تم واپس آؤ گے ، تب تم سے لوں گی، ابھی اپنے پاس رکھو! یہ بات صرف ماں اور بیٹے میں ہوئی، تیسرا کوئی نہیں جانتا، اب اس کی ماں کا انتقال ہو گیا ہے ، تو اب وہ جور قسم ہے ، کیا وہ ماں کی وراثت میں جائے گی یا نہیں ؟ اور اس کا استعمال کیسے کرے ؟ کیا اپنی ذات پر اس میں سے کوئی پیسہ لگا سکتا ہے یا نہیں ؟ رہنمائی فرما ئیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.