Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مسلم کو قرض کے بدلے نفع دینا

Answered by
مفتی محمد حسان عطاری مدنی
Fatwa no.
4712-WAT
Issued
17 شعبان المعظم 1447هـ /06 فروری 2026ء

Answer (beginning)

بسم الله الرحمن الرحيم غیر مسلم کو قرض کے بدلے نفع دینے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال کسی مسلمان کا کسی غیر مسلم کے پاس، اپنا سونا گروی رکھوا کر اس سے رقم لینا، اور اصل رقم کی ادائیگی کے ساتھ ماہانہ اس پر نفع یا بیاج دینا کیسا ؟ جواب سونا گروی رکھوا کر لی گئی رقم ، قرض ہے ، اور اس پر نفع دینا سود ہے، اور سود دینا اگرچہ کافر کو ہو، مطلقا ناجائز و حرام ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے " (غیر مسلم نے ) مسلمان کو اگر سو روپیہ کا نوٹ قرض دیا اور شرط کر لی کہ مہینہ بھر بعد بارہ آنے یا ایک پیسہ زائد لوں گا تو حرام اور سود ہے، لان كل قرض جرمنفعة فھور بو(کیونکہ جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے)۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.