Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چاول اسٹاک کرنے کا حکم

Answered by
مولانا محمد نور المصطفی عطاری مدنی
Fatwa no.
4711-WAT
Issued
17 شعبان المعظم 1447هـ / 06 فروری 2026. دار الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم چاول کی فصل کی کٹائی پر چاول سٹاک کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں کاروبار کرتا ہوں ، سٹاکیہ ہوں، جیسے ابھی چاول کا سیزن آیا تھا، یعنی چاول کی فصل کی کٹائی ہوئی تھی، تو میں نے اپنے شہر سے چاول لے کر سٹاک کر لیا ، کہ جب مہنگا ہو جائے گا، تب اس کو بیچ دوں گا، اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟ بالکل واضح کر دیں ۔ جواب چاولوں کی فصل کی کٹائی کے موقع پر اپنے شہر سے چاول خرید کر اسٹاک کر لینا، اور بعد میں بیچ کر نفع کمانا، جائز ہے ، جبکہ شہر والوں کے لیے تنگی کا باعث نہ ہو، اور نہ یہ آرزو اور خواہش ہو کہ چاولوں کا قحط پڑے اور مجھے بہت نفع ملے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.