Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیرون ملک رہنے والے کا کسی کو زکوٰۃ کا وکیل بنانا

Answered by
ابو شاید مولانا محمد ماجد علی مدنی
Fatwa no.
4705-WAT
Issued
13 رجب المرجب 1447ھ / 03 جنوری 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم دوسرے ملک میں رہنے والے آدمی کا پاکستان میں کسی کو زکوۃ کی ادائیگی کا وکیل بنانا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص یورپ میں رہتا ہو لیکن وہ اپنے رشتہ داروں کو پاکستان میں زکوۃ دینا چاہے اور اس کے رشتہ داروں کا ایک بالغ بچہ شرعی فقیر ہو، یعنی اسے زکوۃ دی جاسکتی ہو ، لیکن اس بچے کے نام پر بینک اکاؤنٹ نہیں ہے، تو یہ یورپ میں بیٹھا شخص اس بچے کو کیسے زکوۃ دے سکتا ہے ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.