Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چار مہینے میاں بیوی الگ رہیں تو نکاح پر اثر پڑتا ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4704-WAT
- Issued
- 13 شعبان المعظم 1447ھ /02فروری2026ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم میاں بیوی کا چار مہینے الگ رہنا دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میاں بیوی چار مہینے الگ رہیں تو کیا نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟ تو جواب شوہر نے اگر بیوی کو خلع و طلاق نہیں دی ، اور کوئی ایلا کی صورت بھی نہیں پائی گئی، تو وہ بدستور میاں بیوی ہی ہیں، محض چار ماہ بیوی سے الگ رہنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔ امام اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ نصین نامی خاتون اپنے شوہر کے گھر سے کسی اور کے ہاں چلی گئی اور اس بات کو دس سال گزر گئے ، تو کیا اب وہ دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.