Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں تعوذ اور تسمیہ چھوڑنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد فراز عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4695-WAT
- Issued
- 09 شعبان المعظم 1447ء 29 جنوری 2026 ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم نماز میں تعوذو تسمیہ نہ پڑھنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی نماز میں اعوذ باللہ “ اور ”بسم اللہ “ بالکل نہیں پڑھتا ، تو کیا حکم ہے ؟ جواب امام اور منفرد( یعنی تنہا نماز پڑھنے والے) کے لیے ثنا کے بعد ، قراءت سے پہلے تعوذ ( یعنی اعوذ باللہ) اور تسمیہ ( یعنی بسم اللہ) پڑھنا سنت ہے ، بلا وجہ قصدا ان کو ترک کرنا مکروہ ہے ، لیکن نماز ہو جائے گی ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ”(سننھا)۔۔۔ التعوذ والتسمية “ ترجمہ : نماز کی سنتوں میں سے تعوذ اور تسمیہ بھی ہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.