Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اللہ تعالی کے ناموں پر نام رکھنا
- Answered by
- مفتی محمد حسان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4694-WAT
- Issued
- 11 شعبان المعظم 1447ھ /31 جنوری 2026ء دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
بسم الله الرحمن الرحيم اللہ تبارک و تعالی کے ناموں پر نام رکھنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اللہ تبارک و تعالی کے ناموں پر نام رکھنا جیسے رحمن ، رحیم ، کریم وغیرہ جائز ہے یا نہیں؟ جواب اللہ تبارک و تعالیٰ کے بعض نام ایسے ہیں جو اللہ تعالی کی ذات اقدس کے ساتھ خاص ہیں، جیسے رحمن، قیوم، اللہ وغیرہ، ایسے نام دوسرے شخص کے براہ راست رکھنا جائز نہیں ، ہاں! عبد کی اضافت کے ساتھ رکھ سکتے ہیں، جیسے عبداللہ ، عبدالرحمن وغیرہ ، باقی جو نام اللہ تعالی کے ساتھ خاص نہیں، جیسے رحیم ، کریم ، یہ نام عبد کی اضافت کے ساتھ اور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.