Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جنازے کے ساتھ ڈھول بجانا
- Answered by
- مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4692-WAT
- Issued
- 10 شعبان المعظم 1447ھ /30 جنوری 2026ء دار الافتاء اهلسنت
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم جنازے کے ساتھ ڈھول بجانے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میت کو جنازہ گاہ کی طرف لے جاتے ہوئے ڈھول اور قوالی کے ساتھ لے جایا جاتا ہے ، اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟ جواب ڈھول وغیرہ آلات موسیقی بجانا، ناجائز و گناہ ہے، اور میت کو جنازہ گاہ کی طرف لے جاتے ہوئے ، بجانے میں ان کی شناعت (قباحت) مزید بڑھ جائے گی، کہ یہ موقع تو گناہوں سے تو بہ کرنے ، اور اللہ تبارک و تعالی کی رحمت کا نزول مانگنے کا ہے ، نہ کہ گناہ کرنے اور ان کی وجہ سے لعنت کا مستحق ہونے کا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.