Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میرل (Meral) فاطمہ نام رکھنا اور میرل نام کا مطلب

Answered by
مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
Fatwa no.
4679-WAT
Issued
01 شعبان المعظم 1447ھ /21 جنوری 2026ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم میرل (Meral) فاطمہ نام رکھنے کا حکم میرل (Meral) فاطمہ نام رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرل (Meral) ترکی زبان کا لفظ ہے ، جس کا مطلب ہے : غزال (ہر ن) ۔ اور فاطمہ پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی شہزادی کا نام ہے ، اس اعتبار سے یہ نام رکھنے میں حرج نہیں ہے ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شہزادی سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی نسبت سے بچی کا نام صرف فاطمہ رکھ لیں یا دیگر صحابیات ، صالحات رضی اللہ تعالی عنہن میں سے سے کسی کے نام پر نام رکھ لیں کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.